1.3.4 تاریخی مطالعات میں تخیل۔

"Imagination.” Photo Credit: Thomas Hawk, 2013

.کالنگ ووڈ (۱۹۴۶ سے ۱۹۹۴) کہتے ہیں کہ تاریخ بنیادی طور پر مختلف  ہے کیوں کہ جن واقعات کا مورخین مطالعہ کرتے ہیں ان کا ایک "خارجی”پہلو ہوتا ہے جو قابل مشاہدہ ہوتا ہے، اور ایک "داخلی” پہلو ہوتا ہے جسے صرف فکری انداز میں متصور کیا جا سکتا ہے۔ (Lemisko, 2004)

کیا تاریخ کے مطالعہ میں تخیل کا کوئی مقام ہے؟ مورخ اور فلسفی آر جی کولنگ ووڈ کے مطابق، تخیل ماضی کے واقعات کو دوبارہ تصور کرنے کی کلید ہے۔

انگریزی میں پڑھیں: تاریخی تخیل، کلاس روم میں کولنگ وڈ//کینیڈین سوشل سٹڈیز

 

رہنمائی کے سوالات:

۱۔کیا وہ علم  جس میں تخیل کا استعمال کیا گیا ہو قابل اعتماد ہو سکتا ہے؟

۲۔کیا تاریخ علم کی دوسری قسموں سے مختلف ہے؟

۳۔کیا آپ کو لگتا ہے کہ انسانی تخیل چیزوں کو ان کی حقیقت پر سمجھنے کے لئےبہتر بصیرت فراہم کر سکتا ہے؟

۴۔اگر یہ مان لیا جائے کہ تاریخ کی بہتر تفہیم کے لئے تخیل کی ضرورت ہوتی ہے ، تو کیا نتیجتا یہ بھی ماننا ہوگا کہ تاریخ کا مطالعہ نفس انسانی کے علم سے گہرا تعلق رکھتا ہے؟

۵۔کیا آپ کو لگتا ہے کہ تاریخ نویسی، اگر کالنگ ووڈ کےتجویز  کردہ طریق پر عمل کر تے ہوئے کی جائے، اپنی ذات کے بارے میں ہمارے علم میں اضافہ کرتی ہے؟

تھمب نیل: "تخیل.” فوٹو کریڈٹ: تھامس ہاک۔ CC BY-NC 2.0