4.5.1: گلوبل وارمنگ کی سائنسی تفہیم

 

عالمی حرارت میں تبدیلی کی ایک بڑی وجہ انسانوں کی سرگرمیاں ہیں۔اس تبدیلی کی وجہ سے  درجہ حرارت کو  منظم  رکھنے کی زمین کی صلاحیت کو ناقابل تلافی نقصان  پہنچ رہا ہے۔ اور اسی وجہ سے سوکھا پڑنے، جنگلوں میں آگ لگنے اور بھاری بارش کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ سمندری پانی میں اضافہ ہو رہا ہے، اور بڑے پیمانے پر وہ جانور معدوم ہونے کی کگار پر ہیں جو اپنے قدرتی رہایشی ٹھکانوں کے ختم ہو جانے کے بعد  دوسرے ماحول میں ڈھلنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

رہنمائی کے سوالات:

۱۔ اس ویڈیو میں  خطاب کرنے والے لوگ کون ہیں؟ انکی علمی صلاحیت  کیا ہے اور ان کی بات کتنی مستند ہے؟

۲۔اس ویڈیو میں عالمی حرارت میں تبدیلی کی وجہ سے ہونے والے کن تین خطروں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے؟

۳۔ ویڈیو کے مطابق انسانوں اور دوسرے جانوروں میں  کون سے طبقات    سب سے زیادہ متاثر ہوں گے؟

۴۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ توالو میں بسنے والے لوگ کہاں جائیں گے؟

۵۔ ویڈیو میں عالمی حرارت کی تبدیلی کے ثبوت میں کچھ جگہوں کی نشان دہی کی گئی ہے، مثلاً  گلیشیر کا پگھلنا۔ ان میں سے تین کے نام بتائیے؟

۶۔عالمی حرارت کی تبدیلی کے کون سے آثار آپ کے مشاہدے میں آئے ہیں؟کیا آپ کے گھر کے بزرگ اپنے بچپن کے زمانے اور آج کے زمانے میں ہونے والے فرق کا ذکر کرتے ہیں، مثلاً  یہ کہتے ہوں کہ پانی کی فراہمی تھی  یا  طوفانوں میں تیزی آگئی ہے، وغیرہ؟

۷۔ کیا کوئی "تدبیر” موجود ہے، مثال کے طور پر  وہ تدبیریں جن پر ڈاکٹر بین  ایبٹ نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے؟ کیا یہ تدبیریں صرف انسانوں کے لئے ہیں، یا پھر  انسان دوسرے جانوروں کی  جانوں اور ان کی بھلائی  کا خیال رکھنے کا ذمہ بھی اٹھائیں گے۔

ویڈیو کریڈٹ: "گلوبل وارمنگ کی سائنسی تفہیم۔ زمین کی بقا۔ اسپارک۔” اس غیر معمولی ڈاکیومینٹری کو آئی پی سی سی اور دنیا کے ماہر ترین سائنس دانوں کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ ڈاکیومینٹری  ان عنوانات کی وضاحت کرتی ہے جنہیں ففتھ اسیس مینٹ رپورٹ ۲۰۱۵ میں ذکر کیا گیا تھا، مزید برآں یہ اس بات پر بھی روشنی ڈالتی ہے کہ کس طرح ہم  زمین کی تاریخ کے سب سے اہم موڑ پر ہو سکتے ہیں۔ اس ڈاکیومنٹری میں ہزاروں صفحات پر مشتمل  سائنسی  معلومات کی تسہیل کی گئی ہے، اور جگہ جگہ سی جی آئی کے مدد سے  وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی ہے  تاکہ متعلقہ سائنس کو آسانی سے سمجھا جا سکے۔

Thumbnail: Polar bear cubs. Alaska Region U.S. Fish & Wildlife Service, 2010. CC BY-NC-ND 2.0.