3.1.1 سائنس کی تاریخ اور فلسفہ کا تعارف

ہماری ثقافت سائنسی دعووٴں اور سائنسی تحقیقات  کے تکنیکی نتائج سے بھری ہوئی ہے۔ ہم عوامی نیوز میڈیا میں سائنسی دریافتوں  کے بارے میں سننے کے عادی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ، بہت سارے پیشوں میں  ایک حد تک سائنسی خواندگی کو لازم قرار دیا جانے لگا ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ ایک ماہر سائنس داں کے طور پر اپنا کریئر بھی بنا رہے ہوں۔ کہنا یہی ہے کہ ہم ہر وقت "سائنس” کے بارے میں بات کرتے رہتے ہیں۔ لیکن کیا واقعی ہم نے یہ سوچنے کے لئے وقت نکالا ہے کہ سائنس اصل میں ہے کیا؟ سائنسی نظریات کو کیسے قبول اور کیسے رد کیا جاتا ہے؟ اور سائنسی دعووٴں  پرہم کس حد تک یقین  رکھ سکتے ہیں؟(Barseghyan et al..، 2018)

ٹورنٹو یونیورسٹی میں ڈاکٹر ہاکوب بارسیکھیان کا یہ پہلا لیکچر  ہے جو سائنس کی تاریخ اور اس کے فلسفے کے اہم سوالات کا تعارف پیش کرتا ہے۔ عوام میں مشہور ہے کہ جب سائنس نے خود کو مذہب سے آزاد کر لیا، اس وقت ایک سائنسی انقلاب  آیا اور اسی کے ساتھ حقیقی سائنس کی ابتدا ہوئی۔  اس کہانی کے مطابق گیلیلیوں جیسے سائنس دانوں کو  عقل کا استعمال کرنے کی وجہ سے ستایا گیا۔  لیکن کیا سائنس اور جعلی سائنس کے درمیان حد بندی واضح ہے؟ کیا سائنس کا طریقہ کار عقلی، آفاقی ، اور ناقابل تغیر ہے؟  ان سوالوں کی تحقیقات  ہم سائنس کے فلسفہ کے کچھ بنیادی تصورات کے مطالعہ سے کریں گے۔

پڑھیں: باب 1: تعارف // یونیورسٹی آف ٹورنٹو اوپن ای ٹیکسٹ

رہنمائی کے سوالات:

۱۔آپ کو ان میں سے کتنے سائنسی افسانوں پر یقین تھا؟

۲۔پروفیسر بارسیکھیان یہ کیوں  کہتے ہیں کہ سائنس کی تاریخ کی لکھتے وقت  افراد اور اداروں کے بجائے ہمیں نظریات پر توجہ  مرکوز کر